جنرل ضیاء الحق کا شاندار دور اقتدار میں 6 سے 8 سال کا
تھا۔ لیکن مجھے یہ سب کچھ یاد ہے جو آپ سے شیئر کررہا ہوں
وہ دور جب پاکستان میں تمام بھارتی میڈیا پہ پابندی تھی ۔ ٹی وی پہ ایک چینل ہوتا تھا اور نیوز کاسٹر سرپہ دوپٹہ رکھ کہ آتی تھیں۔
ٹی وی نشریات شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک ہوتی۔
نشریات کا آغاز اور اختتام تلاوت، حمد اور نعت پہ ہوتا۔
چوری ، زنا کی بہت سخت سزائیں تھیں اور ملک میں مکمل امن و امان تھا ۔
تندور پی روٹی آٹھ آنے کی ملتی تھی اور دس روپے میں ایک مزدور آرام سے دو وقت کا کھانا کھا لیتا تھا۔
تمام سیاسی پارٹیوں پہ پابندی تھی اور عوام کو گمراہ کرنے والے سیاستدان جیل میں تھے ۔
سرکاری سکول فیس 2 روپے ماہانہ تھی اور پرائیوٹ سکول فیس 50 روپے ماہانہ۔
سکول میں پڑھایا جانے والا نصاب سخت جانچ پڑتال سے گزرتا اور اسلام مخالف اور پاکستان مخالف کوئی چیز بچوں کو نہ پڑھائ جاتی ۔
کالج میں ایک مہینہ فوجی ٹریننگ ہوتی جس میں میرے بڑے بھائی نے بھی حصہ لیا تھا اور ان کو بیس اضافی نمبر ملتے ۔
پاکستانی برانڈ کمپنیوں کو تحفظ حاصل تھا۔
ملک کی اپنی پولکا آئس کریم، آر سی کولا ، بناکا ٹوتھ پیسٹ، فوجی کارن فلیکس ۔ ناصر صدیق گلاس ، رہبر واٹر کولر ، پرافیشنٹ موٹر کار ، یعصوب ٹرک ، پاکستان میں عام نظر آتے۔
دور دراز گاؤں میں مسجد فجر اور ظہر کے درمیان سکول کے طور پہ استعمال ہوتی ۔جنہیں مکتب کہا جاتا تھا میں نے بھی ابتدائی تعلیم ایک مکتب سے حاصل کی اس مکتب میں اس وقت صوفی غلام علی صاحب پڑھاتے تھے
تعلیم بالغاں کیلئے نئی روشنی سکول شام کو کھلتے۔وہ ہمارے گھر کے ساتھ پرائمری سکول ہوا کرتا تھا
پھر 1988 میں جنرل ضیاء الحق ایک پراسرار حادثے میں شہید ہو گئے اور بینظیر بھٹو کا دور شروع ہوا ۔
سب سے پہلے بینظیر نے ضیاء الحق کی تمام اسکیمیں بند کیں ، جن میں مسجد سکول اور نئی روشنی سکول شامل تھے ۔
پھر زنا کی سزا حدود آرڈیننس ختم کر دیا گیا ۔
پھر پاکستان میں زنا عام ہونا شروع ہوا اور تعلیم مہنگی ہوتی گئ اور وہ سب کچھ ہوتا گیا کہ اللہ کی پناہ ۔
جنرل ضیاء ایک ملٹری ڈکٹیٹر ضرور تھا مگر ساری دنیا کا کفر اس سے کانپتا تھا ۔ اپنے ملک کےسارے شیاطین اس کے دور حکومت میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ۔
ہمیں فخر ہے جنرل ضیاء الحق شہید پر
اللہ آپکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے
آمین.



0 Comments
if you have any issue let me know plz