WHAT’S HOT NOW

ads header

Adsen -6A

Business

wikipedia

Search results

Wikipedia

Search results

my way my life

my way my life

My Way My Life

My way my life

My Way My life

My Way My Life

my way my life

My Way My Life

My way my life

Please like and support Thanks

my way my life


Contact form

Name

Email *

Message *

Powered By Blogger

My Way My Life

  • post, page , label, social media corner, news alerts ,

Information Technology.online earning tips and tricks, online earning tips for students, online earning tips in pakistan, online earnLaw Article, Law and Constitutional matter, and . videos and Article .wild life ٫ online educational Lecture and , Theses, song , Film Story. Accounts Article ,Travelling , Business, research experience, digital Electronics ٫ Marketing Farming Cultivation ٫development, Medical information and Lectures. Farm housing, Stock business , News all over the world , etc

Information Technology.online earning tips and tricks, online earning tips for students, online earning tips in pakistan, online earnLaw Article, Law and Constitutional matter, and . videos and Article .wild life ٫ online educational Lecture and , Theses, song , Film Story. Accounts Article ,Travelling , Business, research experience, digital Electronics ٫ Marketing Farming Cultivation ٫development, Medical information and Lectures. Farm housing, Stock business , News all over the world , etc

Theme images by kelvinjay. Powered by Blogger.

Recent Posts

Recent in Sports

Sports

Recent Comments

Business

my way my life

  • Project planner, promotional project, advertising , website creation

Life & style

ad test 2

Sports

Total Pageviews

My Way My Life

Search This Blog

My Way My Life

My way my life

my way my life

my way my life

Find Us On Facebook

Search box

My way my life

My way my life

Search This Blog

Find Us on Facebook

क्रामिक खबरें

My Way My Life

My photo
Human Rights Activist.And welfare work for victim .we are starting the fund generate for disaster victim.

Main Tags

My Way My Life

My photo
Human Rights Activist.And welfare work for victim .we are starting the fund generate for disaster victim.

Main Tags

Categories

Labels

my way my life

My way my life

About Us

About Us
Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry's.

No Thumbnail Image

No Thumbnail Image

About Us

About Us
Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry's.

My Way My Liffe

My Way My Liffe
Mirza Waseem baig

My way my life

My way my life
The world is your

My way my life

My way my life
M.W.Baig

AB Google

About Us

About Us
Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry's.

advertising test 3x6

Subscribe Us

Main Tags

adst.1

Translate

Life & style

ad #1 google

my way my life

My way my life

My way my life

My way my life

Popular Posts

My Way My Life

my way my life

Ticker

6/recent/ticker-posts

my way my life

Pages

Life & style

Games

Sports

» »Unlabelled » عجیب ترین چوری کا واقعہ

 عجیب ترین چوری کا واقعہ




 ایک نہایت شاطر اور ماہر چور نے چوری کی خاطر، مہنگا لباس زیب تن کرکے معزز اور محترم دکھائی دینے والے شیخ جیسا حلیہ بنایا اور صرافہ بازار میں سنار کی ایک دکان کے اندر چلا گیا۔ 


سنار نے جب اپنی دکان میں وضع قطع سے نہایت ہی رئیس اور محترم دکھائی دینے والے شیخ کو دیکھا جس کا نورانی چہرہ چمک رہا تھا، تو سنار کو ایسا لگا جیسے اس کی دکان کے بھاگ جاگ اٹھے ہوں ۔

اسے پہلی بار اپنی چھوٹی سی دکان کی عزت و وقار میں اضافے کا احساس ہوا۔

 سنار نے آگے بڑھ کر شیخ کا استقبال کیا۔

 شیخ کے بہروپ میں چور نے کہا: آپ سے آج خریداری تو ضرور ہوگی مگر اس سے پہلے بتائیں کیا آپ کے لیے ممکن ہے کہ آپ اپنی سخاوت سے ہمارے ساتھ مسجد بنانے میں حصہ ڈالیں؟ اس نیک کام میں آپ کا حصہ خواہ ایک درہم ہی کیوں نہ ہو۔

سنار نے چند درہم شیخ کے حوالے کئے ہی تھے کہ اسی اثناء میں ایک لڑکی جو درحقیقت چور کی ہم پیشہ تھی ، دکان میں داخل ہوئی اور سیدھی شیخ کے پاس جا کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا، اور التجائیہ لہجے میں اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے خیر و برکت کی دعا کے لیے کہا۔

سنار نے جب یہ منظر دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا، اے محترم شیخ لاعلمی کی معافی چاہتا ہوں مگر میں نے آپ کو پہچانا نہیں ہے۔

 لڑکی نے یہ سن کر تعجب کا اظہار کیا اور سنار سے مخاطب ہوکر کہنے لگی، تم کیسے بدنصیب انسان ہو، برکت، علم، فضل اور رزق کا سبب خود چل کر تمھارے پاس آگیا ہے اور تم اسے پہچاننے سے قاصر ہو۔ 

لڑکی نے شیخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں علاقے کے مشہور و معروف شیخ ہیں، جنہیں خدا نے،  کثرت علم ، دولت کی فروانی اور ہر قسم کی دنیاوی نعمتوں سے مالا مال کر رکھا ہے۔ انہیں انسانوں کے بھلے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔

لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب رہتے ہیں ۔




 سنار نے شیخ سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ؛ شیخ صاحب میں معافی کا طلبگار ہوں، میرا سارا وقت اس دکان میں گزرتا ہے اور باہر کی دنیا سے بے خبر رہتا ہوں،  اس لیے اپنی جہالت کی وجہ سے آپ جیسی برگزیدہ ہستی کو نہ پہچان پایا۔ 

 شیخ نے سنار سے کہا: کوئی بات نہیں انسان خطا کا پتلا ہے، غلطی پر نادم ہونے والا شخص خدا کو بہت پسند ہے۔ تم ایسا کرو ابھی میرا یہ رومال لے لو اور سات دن اس سے اپنا چہرہ پونچھتے رہو، سات دنوں کے بعد یہ رومال تمہارے لیے ایسی برکت اور ایسا رزق لے آئے گا جہاں سے تمہیں توقع بھی نہ ہو گی۔


 جوہری نے پورے ادب و احترام کے ساتھ رومال لیا، اسے بوسہ دیا، آنکھوں کو لگایا، اور اپنا چہرہ پونچھا، تو ایسا کرتے ہی وہ بے ہوش کر گرا۔ اس کے گرتے ہی شیخ اور اس کی دوست لڑکی نے سنار کی دوکان کو لوٹا اور وہاں سے فوراً رفو چکر ہوگئے۔


  اس واقعے کو جب چار سال گزر گئے اور سنار رو دھو کر اپنا نقصان بھول چکا تھا۔ تو چار سال کے بعد پولیس کی وردی میں ملبوس دو اہلکار سنار کی دکان پر آئے، ان کے ساتھ وہی چور شیخ تھا جس کو  ہتھکڑیاں لگی ہوئی ۔سنار اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔


 ایک پولیس والا سنار کے پاس آکر پوچھنے لگا کیا آپ اس چور کو جانتے ہیں؟ کیونکہ آپ کی گواہی سے ہی قاضی اسے سزا سنا سکتا ہے۔ سنار نے کہا کیوں نہیں اس نے فلاں فلاں طریقہ واردات سے مجھے بے ہوش کرکے میری دکان لوٹ لی تھی۔

پولیس والا شیخ کے پاس گیا اور اس کی ہتھکڑی کو کھولتے ہوئے کہنے لگا، تم نے جس طرح دکان لوٹنے کا جرم کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ ساری کارروائی دہراؤ تاکہ ہم طریقہ واردات کو لکھ کر گواہ سمیت قاضی کے سامنے پیش کرکے تم پر فرد جرم عائد کروا سکیں۔ شیخ نے بتایا کہ میں اس اس طرح داخل ہوا اور یہ کہا، اور میری مددگار لڑکی آئی اس نے فلاں فلاں بات کی، پھر میں نے رومال نکال کر دکاندار کو دیا۔


پولیس والے نے جیب سے ایک رومال نکال کر شیخ کو تھمایا، شیخ نے سنار کے پاس جاکر اسی طریقے سے اسے رومال پیش کیا تو پولیس والا سنار سے کہنے لگا، جناب آپ بالکل ٹھیک اسی طریقے سے رومال کو چہرے پر پھیریں جیسے اس دن پھیرا تھا۔ سنار نے ایسا ہی کیا اور وہ پھر سے بے ہوش ہوگیا۔  شیخ نے اپنے دوستوں کی مدد سے دوبارہ دکان لوٹ لی جنہوں نے پولیس والوں کا بھیس بدل رکھا تھا۔


*یہ تو صرف ایک قصہ تھا اس طرح کی وردات ہمارے ملک کے حکمرانوں نے کر دیا ہے کہ کسی بھی طریقے سے بس عوام کو بیوقوف بنا کر لوٹتے رہو کبھی گیس، کبھی بجلی، کبھی ٹیکس، کبھی پٹرول اور بھی طرح طرح کے نیے طریقے سے عوام کو مل کر چونا لگا رہے ہیں*

🤣🤣🤣



«
Next
Newer Post
»
Previous
Older Post

No comments:

Leave a Reply

if you have any issue let me know plz