(واشنگٹن پوسٹ کا اہم ترین مضمون) مغربی دنیا کے فکری افق پر ایک غیر معمولی تبدیلی
مغربی دائیں بازو اسلام کی طرف مائل ہو رہا ہے؟
(واشنگٹن پوسٹ کا اہم ترین مضمون)
مغربی دنیا کے فکری افق پر ایک غیر معمولی تبدیلی کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں۔
وہ حلقے جو کبھی اسلام کو تہذیبی خطرہ قرار دیتے تھے، آج اسی اسلام کے بعض پہلوؤں میں کشش محسوس کرنے لگے ہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون نے اسی بدلتے رجحان کا جائزہ لیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ آخر کیوں مغرب کے کچھ دائیں بازو کے بااثر افراد اچانک اسلام کی تعریف کرنے لگے ہیں؟
مضمون نگار میتھیو شمیتز کے مطابق، حالیہ برسوں میں امریکی دائیں بازو کے بعض نمایاں چہرے (خصوصاً متبادل میڈیا اور پوڈکاسٹ کلچر سے وابستہ شخصیات) اپنے روایتی بیانیے سے ہٹ کر ایک نیا زاویہ اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ اسلام کو اب ایک خطرہ کے بجائے، ایک ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، خاص طور پر اس لبرل جدیدیت کے مقابلے میں جسے وہ مغربی زوال کی بنیادی وجہ سمجھتے ہیں۔
ان شخصیات میں (ٹکر کارلسن) Tucker Carlson-
(کینڈس اوونز) Candace Owens اور (نک فیونٹس) Nick Fuentes جیسے نامور ترین نام شامل ہیں، جنہوں نے مختلف مواقع پر اسلامی شریعت کے بعض پہلوؤں کو سراہا ہے یا مسلمانوں کے خلاف عمومی تعصب پر تنقید کی ہے۔ یہ رویہ اس بیانیے سے یکسر مختلف ہے جو نائن الیون کے بعد مغربی میڈیا میں غالب رہا، جہاں اسلام کو اکثر آزادیوں کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا۔
دلچسپ بات یہ کہ یہ تبدیلی صرف نظریاتی سطح تک محدود نہیں ہے۔ بعض شخصیات نے تو اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر اسلام کو بطور دین قبول بھی کیا۔ (اینڈریو ٹیٹ) Andrew Tate کی مثال اس حوالے سے سرفہرست ہے، جو اسلام کو مغربی معاشروں میں پھیلتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی اور خاندانی نظام کے ٹوٹنے کے مقابل ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں اور وہ بھی ڈنکے کی چوٹ پر۔ بی بی سی جیسے چینل کی سیٹ پر بیٹھ کر-
اس رجحان کو محض مذہبی دلچسپی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ ایک وسیع تر نظریاتی پس منظر رکھتا ہے۔ مغربی دائیں بازو کے کچھ حلقے اب “یہودی-مسیحی تہذیب” کے اس روایتی تصور پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں، جو جمہوریت، کثرتیت اور لبرل اقدار سے جڑا ہوا تھا۔ اس کے بجائے وہ ایک نئے فکری اتحاد کی تلاش میں ہیں، جسے مبصرین “اسلامی-مسیحی دائیں بازو” کا نام دیتے ہیں، یعنی ایسا اتحاد جو لبرل ازم پر تنقید کرتا ہے، سماجی قدروں میں سختی کا حامی ہے اور خاندانی نظام و صنفی کرداروں کی روایتی تشکیل کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ گروہ مسلم معاشروں کو ایک ایسے نمونے کے طور پر دیکھتا ہے جہاں مذہب اب بھی زندگی کے مرکز میں ہے، خاندانی ڈھانچہ مضبوط ہے اور سماجی کردار واضح ہیں۔ ان کے نزدیک مغرب ان خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں شناخت کا بحران اور اخلاقی انتشار بڑھ رہا ہے۔ بعض نوجوانوں کو اس اسلامی تصور میں ایک “مضبوط مردانہ شناخت” بھی دکھائی دیتی ہے، جو انہیں مغربی معاشرے کے نرم یا غیر یقینی رویوں کے مقابل زیادہ پرکشش محسوس ہوتی ہے۔
اس رجحان کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ مضمون نگار کے مطابق اسلام کو بعض حلقے امریکی خارجہ پالیسی اور عالمی لبرل نظام پر تنقید کے ایک آلے کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔ (الیگزینڈر دوگین) Alexander Dugin جیسے نظریہ ساز عالمی سطح پر ایک ایسے اتحاد کی بات کرتے ہیں جو “لبرل اشرافیہ” کے خلاف کھڑا ہو اور اس تناظر میں بعض افراد شریعتِ اسلامی کو سرمایہ دارانہ نظام کے متبادل کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، جو معاشی توازن کی علمبردار ہے۔ اسی طرح کچھ حلقے مغربی غلبے کے مقابل اسلامی دنیا کے ساتھ قربت کی بات بھی کرتے ہیں۔
مضمون میں ان تصورات پر تنقیدی نگاہ بھی ڈالی گئی ہے۔ مثال کے طور پر عرب دنیا کے کئی ممالک خود سماجی و سیاسی چیلنجز کا شکار ہیں، جبکہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان بعض سماجی مسائل پر نسبتاً معتدل یا حتیٰ کہ لبرل موقف رکھتے ہیں۔ عالمی سیاست کی حقیقت بھی اس تصور کی مکمل تائید نہیں کرتی کہ کوئی متحدہ “اسلامی محاذ” مغرب کے خلاف تشکیل پا رہا ہے۔ مختلف مسلم ممالک کے باہمی اختلافات، علاقائی سیاست اور (ابراہام معاہدے) Abraham Accords جیسے معاہدے اس پیچیدہ صورت حال کو واضح کرتے ہیں۔
مضمون کے اختتام پر یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ اسلام کے لیے ابھرنے والی یہ نئی “دلچسپی” دراصل ایک گہرے فکری خلا کی علامت ہو سکتی ہے۔ مغرب کے کچھ حلقے لبرل جدیدیت سے نہایت مایوس ہو کر ایک ایسے متبادل کی تلاش میں ہیں جو انہیں معنویت، نظم اور شناخت فراہم کر سکے۔ اس تلاش میں اسلام ایک علامتی جواب کے طور پر سامنے آ رہا ہے....
یہ سارا رجحان محض مذہب کی طرف رجوع نہیں بلکہ ایک تہذیبی سوال کی بازگشت ہے۔ وہ سوال جو آج کا مغرب خود سے پوچھ رہا ہے: کیا اس کی موجودہ راہ درست ہے یا اسے کسی نئے فکری افق کی تلاش ہے؟ (الجزیرہ)


.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)

.jpeg)







Comments
Post a Comment
if you have any issue let me know plz