https://mirzawaseembaig.blogspot.com/p/blog-page_54.html
شاعر خورشید ایلچپوری مجموعہ کلام ، دارو رسن
نامور ایوارڈ یافتہ نعتیہ شاعر خورشید ایلچپوری کا کلام پیش خدمت ہے۔
32
33
34
35
open the link below for next pages
https://mirzawaseembaig.blogspot.com/p/36-46.html
32
غیر ممکن ہے اسے ساحل ِ مقصود ملے
زندگی میں جو نہ آئے کسی طوفاں کے قریب
أأأأأأأ
موجِ طوفاں جو اختیار میں ہے
جو قوتِ بازو پر طوفانِ حوادث سے کھیلے
ہر موجِ بلا خود ان کے لئے اک راہگذر ہو جاتی ہے
کھیل جاتے ہیں جو طوفانوں سے ہنستے ہنستے
ان کو اس راہ میں جینے کے پیام ِ آتے ہیں
پاتا ہے وہی منزل اپنی اس کو ہی کنارا ملتا ہے
دامانِ تلاطم میں جسکی ہر سانس بسر ہو جاتی ہے
33
امواج کا سکوت ہے طوفاں لئے ہوئے
ہر رہگذر ہے موت کا ساماں لئے ہوئے
پھر کھیلتی ہے شورش ِ طوفاں سے زندگی
پھر انقلاب خیز ہے رخ کائینات کا
قضا سے کھیلتے جائیں گے امواج ِ تلاطم میں
ہمیں کرنا ہے رنگِ زندگانی جاوداں اپنا
ہے آرزو ئے زیست تو طوفاں سے کھیل جا
ہر موج بن کے آئے گی ساحل ِ حیات کا
34
ساحلوں سے اب وہ اے خورشید ؔکوسوں دور ہے
جس نے موجوں میں کناروں کے نشاں دیکھے ہیں
ساحلوں کی خوشی وہ کیا جانے
جو تلاطم سے فیضیاب نہ ہو
خود بخود اس کے لئے ہوتے ہیں ساحل پیدا
سامنے عزم کے حائل کبھی طوفاں نہ رہا
رہین ِ ناخدا جب جذبہ ہائے دل نہیں رہتے
تو طوفانوں کی موجوں میں بھی ساحل دیکھ لیتے ہیں
35
ہر موج کو سمجھتا رہا ساحلِ حیات
کھیلا ہوں یوں بھی جذبہء بے اختیار سے
کشتیہ جہاں پہ ہو گئی مرہونِ حادثات
ساحل سے بھی اٹھے ہیں وہ طوفاں کبھی کبھی
وہ ساحلِ امید سے کیوں کر ہو ہمکنار
جس کو تلاشِ جادہء عزم و یقیں نہیں
پھر تو ہر موج سے ہو جائیں کنارے پیدا
دل اگر جرائت ِ بیباک کا دیوانہ بنے
0 Comments
if you have any issue let me know plz