https://mirzawaseembaig.blogspot.com/p/blog-page_54.html
شاعر خورشید ایلچپوری مجموعہ کلام ، دارو رسن
نامور ایوارڈ یافتہ نعتیہ شاعر خورشید ایلچپوری کا کلام پیش خدمت ہے۔
29
30
31
29
موت انکے لیے پیغام ِ بقا ہوتی ہے
کھیل جاتے ہیں جو بے ساختہ طوفانوں سے
ہم رہے دہر میں آزردۂ ساحل خورشید ؔ
جاخدا سے کبھی الجھے کبھی طوفانوں سے
سفینہ بڑھا نام لے کے خدا کا
پڑا ہے کہاں ناخداوٗں کے پیچھے
بھروسہ مردِ مومن کو ہے جب اپنی ہی فطر ت پر
تو پھر کس واسطے موجِ بلا ساحل نہ بن جائے
پھیر تو سکتے ہیں اسے خورشید ؔ طوفانوں کے رخ
حوصلے انساں کے مجبور ہو سکتے نہیں
30
جو دل میں عزم ِ بلند لے کر ہرایک طوفان سے کھیلتا ہے
وہی کنارے سے جا لگے گ اسی کو پھر زندگی ملے گی
ہمیشہ میں ہی طوفاں سے کھیلا ہوں زمانے میں
ہمیشہ موت سے پایا ہے اذنِ زندگی میں نے
جو طوفان کی گود میں کھیلتے ہیں
ابھرتے ہیں موجوں پہ ایسے سفینے
پا سکتے نہیں وہ کبھی معراج ِ محبّت
امواجِ تلاطم سے جو کھیلا نہیں کرتے
وہی ساحلوں پر ابھرتے ہیں جا کر
جو خوش ہو کے منجدہار سے کھیلتے ہیں
31
خورشید ؔ کبھی ان کو کنارا نہیں ملتا
بے ساختہ موجوں سے جو کھیلا نہیں کرتے
کھیلنا ہے تو کھیل تو امواجِ بلا سے
ظلمت کے اندھیروں میں نہاں نورِ یقین ہے
مانوس ہو کے جذبہء طوفاں کی راہ میں
ساحل کی جستجو کی تمنّا نہ کر سکے
کچھ ایسے زندگی کی راہ میں لمحے بھی آتے ہیں
کہ طوفانوں سے ٹکرا کر گزر جانا ہی پڑتا ہے
اسے کیا خوف ہو سیلاب و طوفان ِ حوادث کا
کہ جس کے دل میں اے خورشید ؔ جذبے رقص کرتے ہیں
0 Comments
if you have any issue let me know plz